سفر نامہ وزیرستان (سفر سفر داستان) تیسری قسط

K2 Kings Promoing Tourism & Culture

گزشتہ دن چلنے والے طوفان گردوبار کے دوران مین ٹرانسمیشن لائین میں بڑے فالٹ کی وجہ سے پورے لکی مروت شہر اور ملحقہ علاقوں میں بجلی غائب تھی۔۔۔۔۔ ساری رات سوتے جاگتے گزری تھی ۔۔۔۔ شہاب گل لالہ تو بلکل نہیں سو پائے تھے ۔ روٹ پلان کے مطابق ھمیں صبح سویرے وزیرستان کے لئے نکلنا تھا جو حالات کے پیش نظر لیٹ ھو چکا تھا ۔۔۔ خیر۔۔۔۔۔ اب سوائے صبر کے دوسرا کوئی چارہ نہ تھا ۔۔۔۔

شمالی و جنوبی وزیرستان جانے کے لئے کوئی راستے ھیں ۔۔۔۔۔۔ جیسے پشاور سے کوھاٹ اور بنوں سے ھوتے ھوئے آپ میرانشاہ کے راستے ۔۔۔۔۔رزمک اور مکین پہنچ سکتے ھیں یہ شمالی وزیرستان کی طرف سے انتہائی خوبصورت بڑا اور شاندار راستہ ھے۔۔۔۔ ایک اور راستہ جو (فورٹ سنڈے میں ) ژوب سے وانہ۔۔۔ کانیگروم اور لدھا سے ھوتا ھوا مکین کی طرف آتا ھے اس راستے میں انتہائی خوبصورت سرسبز لینڈ اسکیپ آتے ھیں جو گزرنے والے ھر مسافر کو اپنے قدرتی حسن کے سحر میں جکڑ لیتے ھیں یہ راستہ زیادہ تر لوکل ھی استعمال کرتے ھیں یہ راستہ بلوچستان سے جنوبی وزیرستان میں داخل ھوتا ھے ۔۔۔۔۔ دو راستے اور ھیں جو دو مختلف سمتوں سے آ کر ٹانک میں باھم مل جاتے ھیں۔ ان میں سے ایک راستہ انڈس ھائی وے سے لکی سیمنٹ فیکڑی کے بلکل سامنے درہ پیزو سےھوتا ھوا ٹانک پہنچتا ھے اور دوسرا راستہ ڈیرہ اسمعیل خان سے سیدھا ٹانک شہر تک پہنچتا ھے اس لحاظ سے ٹانک شہر وزیرستان کے مشرقی گیٹ وے کے علاوہ مرکزی شہر بھی ھے ۔۔۔ ڈیرہ اسمعیل خان والا راستہ سب سے زیادہ استعمال ھوتا ھے ۔۔۔ جس پر پبلک ٹرانسپورٹ ھمہ وقت رواں دواں رھتی ھے ۔

ھمیں چونکہ لکی مروت سے وزیرستان جانا تھا اس لئےدرہ پیزو والا راستہ ھمارے بلکل قریب پڑتا تھا ھم نے وزیرستان کے لئے یہی راستہ اختیار کیا ۔۔۔ کچھ سال پہلے بھی میں لالہ شہاب گل Shahab Gul کے ساتھ درہ پیزو کے بلکل سامنے پیزو پہاڑی سلسلے کا سب بلند مقام شیخ بادین نیشنل پارک وزٹ کر چکا تھا ۔۔ یہ جان لیوا اوکھا ٹریک کسی بھی بائیکر کے لئے ایک کڑی آزمائش بن کر سامنے آتا ھے بہت کم بائیکر شیخ بادین نیشنل پارک کے اس ایکسٹریم آف روڈ سے واقف ھوں گے ۔۔۔ آف روڈ ایڈوینچر لوور کےلئے بہترین ٹریک ھے ۔۔ اس کی تفصیل میں چار سال پہلے اپنے ایک سفرنامے میں بیان کر چکا ھوں ۔۔۔

جب ھم درہ پیزو کے مقام پر پہنچے تقریبا ساڑھے گیارہ بج چکے تھے آج کا دن بھی شدید گرم تھا ۔۔۔۔انڈس ھائیوے پر لگے شیخ بادین نیشنل پارک کے بورڈ کے ساتھ کچھ تصاویر بنوائیں ۔۔۔۔اور ۔۔ شیخ بادین کی طرف بڑھتے ۔۔۔ بلند ھوتے زگ زیگ ٹریک کی دور سے ھی زیارت کی۔۔۔۔ کھٹی مٹھی کچھ پرانی یادوں کو تازہ کیا اور پیزو درہ کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔ درہ پیزو سے ٹانک تک۔۔۔ 25 یا تیس کلومیٹر یہ روڈ قدرے بہتر ھے مگر ٹریفک کی آمدورفت اتنی زیادہ نہیں ھے ۔۔۔اس کی ایک سائیڈ پر پیزو ماؤنٹین کا پہاڑی سلسلہ ھے جو سفر کے ساتھ ساتھ روڈ سے بتدریج دور ھوتا چلا جاتا ھے۔۔۔دائیں بائیں باقی راستہ جنگلی پہاڑی کیکروں پر مشتمل سنسان بیابان علاقہ ھے۔۔۔کہیں کہیں برساتی نالوں کی گزرگاھیں موجود ھیں جہاں پر پختہ پل تعمیر کر دئیے گئے ھیں ۔۔۔۔ اس ایریا میں گرمی کی شدت ھم بری طرح محسوس کر رھے تھے اس کے باوجود ھم سب بائیکر لالہ شہاب گل کی انسٹرکشن کے مطابق ایک مناسب رفتار سے ٹانک کی طرف رواں دواں تھے ۔۔۔شدید گرمی اور لو کے باوجود ٹانک شہر میں خاصی گہما گہمی تھی ۔۔۔شہر کے بیچوں بیچ گزرتے ھمارے موٹر سائیکل اور ان پہ بیٹھی خلائی مخلوق سب کی نگاہ کا مرکز بنی ھوئی تھی ۔۔۔ٹانک جیسے گرم شہر میں اس دن جہاں دوپہر کو درجہ حرارت 46 یا 47 ڈگری سینٹی گریڈ پہ پہنچا ھو اور آپ نےفوجی بوٹوں سمیت مکمل بائیکر سیفٹی سوٹ پہنا ھو تو ظاھر ھے مقامی لوگ آپ کو دیوانے(پاگل) یا خلائی مخلوق ھی سمجھیں گے ۔۔۔۔ٹانک وزیرستان کا مضافاتی شہر ھے سردیوں میں خصوصا جنوبی وزیرستان سے اکثر لوگ ٹانک یا ڈیرہ اسمعیل خان کی طرف شفٹ ھو جاتے ھیں اور گرمی آتے ھی واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ھیں ۔۔ٹانک سے براستہ وانہ آپ گومل زام ڈیم کی بھی زیارت کر سکتے ھیں جو کہ گرمیوں میں کسی آزمائش سے کم نہیں ھے یہاں کی مٹی کلراٹھی اور قدرے دلدلی ھے مئی جون میں یہاں بھی بہت گرمی ھوتی ھے اسے وزٹ کرنے کا آئیڈیل موسم ستمبر اکتوبر کے بعد کا ھے۔ گومل زام ویلی تاریخی پس منظر کی حامل ایک قدیم تجارتی گزرگاہ کے طور پر جانی جاتی ھے ۔۔۔افغانستان سے تجارتی قافلے اسی راستے سے ھوتے ھوئےدریائےسندھ عبور کر کے ھندوستان میں داخل ھوتے تھے۔۔ مختلف تاریخی کتابوں میں اس تجارتی گزرگاہ کے حوالے مل جاتے ھیں ۔۔۔

ٹانک شہر میں ھم ۔۔۔۔۔۔ ھر گزرتے شخص کی نظر میں تھے ۔۔۔ ٹانک جنڈولہ روڈ پر فیول کی غرض سے ایک پٹرول پمپ پر رکے تو وھاں ایک صاحب بڑے تپاک سے ملے۔۔۔ اور کہنے لگے آپ ھمارے مہمان ھیں آپ لوگوں کو چائےپانی کے بغیر نہیں جانے دیں گے ۔۔۔ وہ ھمیں مروتًا زبردستی اپنے آفس لے آئے ۔۔۔پٹرول پمپ کے مالک سے ملاقات کروائے جو ھم سے مل کر بہت خوش ھوئے۔۔۔۔۔۔ انھوں نے بڑی محبت سے ھماری خاطر تواضع کی اور ھمارے وزیرستان ٹوور کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے ایک انٹرویو بھی ریکارڈ کر لیا ۔۔۔۔ چائے پانی اور انٹرویو کے بعد پتہ چلا۔۔۔۔ ھمیں آفس میں لانے والے محترم دوست کا نام محمد قذافی خان ھے اور وہ سیاسی و سماجی کارکن ھونے ھونےکے ساتھ ساتھ ٹانک کے مشہور و معروف جرنلسٹ بھی ھیں ۔۔۔ انھوں نے ھمیں وزیرستان میں مختلف جگہوں پر اپنے دوستوں کے نمبرز ریفرینس بھی دٸیے اور ھمارے اس سیاحتی دورے کو میڈیا کوریج دینے کا بھی وعدہ کیا ۔۔۔۔عالیہ بیٹی کی وجہ سے وہ اس سیاحتی دورے کو زیادہ اھمیت دے رھے تھے ۔۔۔۔۔سچ پوچھیں تو یہی سے ھمارے سیاحتی دورے کی خبر ھمارے پہنچنے سے پہلے وزیرستان پہنچ چکی تھی ۔۔۔محمد قذافی بھائی عالیہ بیٹی کی ھمت اور حوصلے کی بار بار تعریف کر رھے تھے ۔ ھیوی بائیک پہ ایک لڑکی اور وہ بھی وزیرستان جیسے قبائلی ایریا میں سیاحت کے لئے جا رھی تھی ایسے علاقے میں یہ بات ان کے لئے بلکل ناقابل فہم اور ناقابل یقین سی لگ رھی تھی ۔۔۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ھوئے انھوں نے ھمیں وزیرستان میں سفر کے حوالے سے گائیڈ بھی کر دیا اور مختلف ایریاز میں اپنے صحافی دوستوں کو آگاہ بھی کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ یہ اچانک ملاقات ھمارے لئے بہت خوش آئند ثابت ھوئی تھی ۔۔۔۔میڈیا کوریج کی وجہ سے ھمارے وزیرستان کے پرائیویٹ سیاحتی دورے میں جان آ گئی تھی۔۔۔۔ کافی دیر گفت و شنید کا سلسلہ چلتا رھا ۔۔۔۔ گرمی کی شدت میں خاصی کمی آ چکی تھی۔۔دل تو چاہ رھا تھا وزیرستان کے حوالے سے ان سے مزید گفتگو جاری رھے مگر ۔۔۔آج شام تک ھمیں مکین پہنچنا تھا اس لئے مناسب موقع دیکھ کر ٹانک سے آگے سفر کے لئےان سے رخصت چاھی اور ھم جنڈولہ کی طرف روانہ ھوگئے ۔۔۔۔۔ ٹانک سے جنڈولہ / وانہ روڈ پر کوئی بیس کلومیٹر کی دوری پر وائی Y شکل کا ایک چوک آتا ھے یہ ابا خیل کا علاقہ ھے اس چوک سے سیدھے ھم وانہ کی طرف نکل جائیں گے اور یہاں سے دائیں ھاتھ روڈ جنڈولہ کی طرف ٹرن کر جاتی ھے ۔۔۔۔ یہی ھمارے روٹ پلان کا رائیٹ وے تھا۔۔۔۔۔

جاری ھے

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں