سفر نامہ وزیرستان (سفر سفر داستان) دوسری قسط

K2 Kings Promoting Tourism & Cultures

شدید آندھی اور بارش تھمنے کے بعد ھم چشمہ بیراج کے مغربی کنارے پر کھڑے تا حد نگاہ موجزن آوارہ لہروں کا نظارہ کر رھے تھے آسمان پر اب بھی کالے بادل چھائےھوئےتھے ۔۔۔۔وزیرستان سفر کا پہلا دن۔۔۔۔ سارا سفر شدید لو اور گرمی میں گزارا تھا ۔۔۔۔۔ بارش کے بعد بیراج کے کنارے چلنے والی ٹھنڈی اور دلفریب ھوائیں اپنے سحر میں جکڑ رھی تھیں ھم کنارے پر کھڑے دیر تک اس خوبصورت منظر کو تخیّل کے قرطاس پر اتارنے کی کوشش کرتے رھے۔۔۔۔۔۔۔ وقت گزرنے کا احساس ھی نہیں ھوا ۔۔۔لالہ شہاب گل کی بہت ساری کالز آ چکی تھیں شاید وہ اس خوف صورت پہاڑی راستے کی وجہ سے زیادہ پریشان تھے۔ میں نے عالیہ بیٹی سے جانے کے لئے کہا جو اس وقت گردونواح سے بے خبر ان طلسماتی نظاروں کی تصویر کشی میں مصروف تھی ۔۔۔۔ ھمیں پانچ بجے درہ تنگ پل پر پہنچنا تھا اور گھڑی کے پیادے کب کے پانچ کی حدیں کراس کر چکے تھے ۔۔۔۔ شہاب لالہ کو کال ملائی جو ناٹ ریسپانڈنگ آ رھی تھی یہ الگ پریشانی تھی ۔۔۔ وھاں سے روانہ ھوئےتو راستہ توقع سے زیادہ سنسان تھا ۔۔۔۔ عالیہ Aalia Ali Tahir بیٹی شاید اس طرح کے راستے کے ان دیکھے خطرات سے بے خبر تھی وہ تو اس زگ زیگ ٹریک پر اپنی نئی بائیک بنیلی 250 Benelli کی رائیڈ انجوائے کر رھی تھی ۔۔ٹریک قدرے بہتر تھا کہیں پتھریلے ٹیلے اور کہیں ریتیلے لینڈ اسکیپ گزرتے جا رھے تھے ۔۔۔ کچھ دیر پہلے چلنے والے ھوائے جھکڑوں نے ریتلے میدانی خدوخال کو بدل کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ ھمارا سفر جاری تھا ۔۔۔۔ شام ھونے میں ابھی کافی وقت باقی تھا ھمیں دور سے روڈ پر کھڑے کچھ لوگ دکھائے دیئے ۔۔۔عالیہ میرے آگے بائیک چلا رھی تھی اس نے فورًا بائیک آھستہ کر کے مجھے آگے جانے کا اشارہ دیا ۔۔میں آگے بڑھا اور جب روڈ پر کھڑے لوگوں کے قریب پہنچا تو ان کے ھاتھوں میں پھولوں کے ھار دکھائیدیئے ۔۔۔۔۔۔ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نے آگے بڑھ کر رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ یہ تو ھمارے آج کے میزبان شہاب لالہ Shahab Gul تھے ۔۔۔۔ چیئر مین حاجی صنم گل Sanam Khayal کی قیادت میں لکی رائیڈر کلب کی ٹیم نے اپنے روائیتی انداز میں ھمارا استقبال کیا ۔۔۔ استقبال کا یہ خوبصورت انداز ان کی بے مثال محبت اور اپنائیت کا مظہر ھے جو آنے والے مہمانوں کو انکا گرویدہ بنا دیتا ھے ۔۔۔۔

اس وقت ھم اس پہاڑی سلسلے کے آخری کنارے روڈ پر کھڑے تھے ۔۔۔ لکی مروت شہر کی اس طرف سورج غروب ھونے کو تھا ۔۔۔ سیاحت گردی کرنے والے جانتے ھیں ۔۔۔۔ پہاڑوں میں غروب آفتاب کی دلکشی بہت نرالی ھوتی ھے سورج کی نارنجی کرنیں جاتے جاتے افق پر اپنے رنگ بکھیرتے چلی جاتی ھیں ۔۔۔۔ کچھ تصویر کشی کے بعد ھم میزبان ٹیم کے ھمراہ لکی مروت شہر روانہ ھو گئے۔۔۔۔ سیاحتی بنجاروں کا یہ قافلہ شہر پہنچا تو اندھیرا چھا چکا تھا ۔۔۔۔ قیام کا انتظام شہاب لالہ کے نعمت کدہ پر کیا گیا تھا اور طعام کا انتظام حاجی صنم گل مروت کے ڈیرہ پر تھا ۔۔۔۔ عالیہ بیٹی تو شہاب لالہ کی فیملی کی طرف چلی گئی اور ھم گھر کی دوسری طرف مہمان خانہ کی طرف چلے گئے ۔۔۔ شہاب لالہ نے ھمیں جلدی جلدی فریش ھونے کو کہا اور ساتھ ساتھ یہ خبر بھی دی کہ سہہ پہر چار بجے کے قریب آنے والے طوفان گردو باد کی وجہ سے پورے شہر کی بجلی تا حال غائبھے اور الیکٹرک فالٹ جلد ٹھیک ھونے کا بھی کوئی امکان نہیں ھے۔۔۔۔۔ یہ ایک الگ تھکا دینے والی خبر تھی۔۔۔ گویا ابھی چراغوں میں روشنی جنریٹر کی وجہ سے تھی جو اور دو چار گھنٹوں میں تھک کر بند ھو جانے والا تھا ۔۔۔خیر کیا کر سکتے تھے ۔۔۔ جلدی جلدی فریش ھوئےاتنے میں ھمیں لے جانے کے لئے حاجی صنم گل کی گاڑی آ چکی تھی ۔۔۔ حاجی صنم گل کے ڈیرے پر حسب سابق ۔۔۔حسب روایت بہترین ضیافت کا انتظام کیا گیا تھا جہاں لکی رائیڈر کلب کے دیگر ممبران بھی موجود تھے ۔۔۔ کھانے کے ساتھ ساتھ حاجی صنم گل کی طرف سے ھلکے پھلکے سیاحتی چٹکلے بھی سننے کو ملتے رھے جنھوں نے ھمہ وقت محفل کو کشت زعفران بنائے رکھا ۔۔۔۔دیر تک آوارہ گردی پر گفت و شنید کا سلسلہ چلتا رھا ۔۔۔ ھمارے ساتھ فیمیل بائیکرعالیہ بیٹی بھی تھی اس لئے وزیرستان ٹوور کے حوالے سے ھر پہلو پر بات چیت ھوئی ۔۔۔ طے یہ پایا کہ کل وزیرستان کے لئے شہاب گل لالہ اور حاجی اسمعیل بھائی سفر میں ھمارے ھمراھی ھوں گے ۔۔

یہ ایک اچھی خبر تھی۔ رات گئے تک سیاحت کے دیوانوں کی یہ محفل اپنے عروج پر رھی ۔۔۔ چائے کے لئےسب دوست پیدل ھی شہر سے باھر کوھاٹ روڈ پر دریائےگمبیلہ کے کنارے سبزی منڈی کی طرف نکل گئے۔۔۔ کڑک چائے کے ساتھ ساتھ یہاں بھی گپ شپ کا سلسلہ جاری رھا ۔۔۔۔ چائے کے لئے سبزی منڈی تک پیدل آنے کا فیصلہ خاص طور پر میرے لئےبہت مہنگا پڑ چکا تھا ۔۔۔۔ واپسی ڈیرے تک آنے میں چودہ طبق روشن ھو گئے تھے ۔۔۔ شہر میں بجلی غائبتھی اور جنریٹر بھی تھک ھار کر بیہوش ھو چکا تھا ۔۔۔۔

شہاب لالہ ھمارے لئے ڈیرے کے کھلے صحن میں چارپایاں لگوا کر۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اور شکیل احمد کو آدم خور ٹائپ مچھروں کے حوالے کر کے جا چکے تھے ۔۔۔ آج رات مچھروں کی خونی ضیافت ھمارے ذمہ تھی ۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

    اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

    اپنا تبصرہ بھیجیں