سفر نامہ وزیرستان (سفر سفر داستان) پانچویں قسط

دوستو۔۔۔

دنیا میں جہاں جہاں بھی قباٸلی علاقہ جات موجود ھیں وھاں کے قباٸل اپنے اپنے آباٶ اجداد کے وضع کردہ اصولوں اور قاعدے قانون کے تحت ھی زندگی گزارتے نظر آتے ھیں ۔۔ قباٸیلی باشندے اپنی تہذیب و ثقافت اور خاندانی اقدار و روایات کے برعکس قطعا کوٸی چیز پسند نہیں کرتے ۔۔۔قباٸل میں ۔۔۔ امارت ۔۔۔ ذات پات ۔۔۔۔ حسب نسب اور تفویض شدہ منصب و مراتب اس وقت تک قابل فخر نہیں ھوتے جبتک انسان۔۔۔ امانت دار ۔۔۔ عہد پرور اور خاندانی روایات کی پاسداری کرنے والا نہ ھو ۔۔۔ وزیرستان کا شمار بھی ایسا ھی قباٸلی علاقہ جات میں ھوتا ھے جہاں لوگ اپنی ذات پر تو شاید سمجھوتہ کر لیں مگر اپنے ورثہ اپنے آباٶ اجداد کی روایات پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے ۔۔۔۔ اس لٸے وزیرستان میں ھمیں سیر و سیاحت کرتے وقت یہ بات ترجیحاتی طور پر ذھن نشین رکھنی چاھیے ھوتی ھے ۔۔

ھوٹل پر مختصر سے قیام اور طعام کے بعد ھماری روانگی ھوٸی ھی تھی کہ شہاب لالہ نے پھر سے رکنے کا اشارہ کر دیا ۔۔۔ یہاں بھی لیفٹ ساٸیڈ پر ایک مناسب سا ٹرک ھوٹل تھا ۔۔۔۔  Shahab Gul لالہ کہنے لگے ۔۔۔مڑہ۔۔۔۔۔ یہ وہ ھوٹل تھا جہاں ھم پچھلی بار رکے تھے ۔۔۔۔ اس ھوٹل کا کھانا زیادہ اچھا ھوتا ھے ۔۔ ان کے اس تاسف پر سب ھی شہاب لالہ کی پھرتیوں کی تعریف کر رھے تھے ۔۔۔ ۔۔ اب جو نصیب میں تھا کھا لیا ھے ۔۔۔ اب آگے موو کرنا چاھیے ۔۔۔۔ میں نے بات کا لقمہ دیا ۔۔۔ اور شہاب لالہ باٸیک کو ریس دے کر آگے نکل گٸے ۔۔

نووارد کے لٸے وزیرستان میں انٹری رجسٹریشن بڑا تھکا دینے والا کام ھے تقریبا ھر دس کلو میٹر بعد ھی ایک انٹری پواٸینٹ ھے اور ھر جگہ انٹری کا پراسس ۔۔۔۔مڈھو سڈھو ۔۔۔۔۔۔ شروع ھو جاتا ھے ۔۔۔۔ جبکہ یقینی طور پر پہلی چیک پوسٹ سے کسی بھی نووارد کی اطلاع آگے بھیج دی جاتی ھو گی ۔۔ اس انٹری کے چکر میں تو لوکل بے چارے بھی بے بس نظر آتے ھیں ۔۔۔ کیونکہ سب کی انٹری ضروری ھوتی ھے ۔۔

پہلی چوکی اور انٹری سے ھی عالیہ بیٹی کی خبر اگلے انٹری پواٸنٹس پر پہنچا دی گٸی تھی ۔۔۔ اور تقریبا ھر چوکی سے یہی تاکید ملتی تھی آپ لوگوں کے ساتھ فیمیل باٸیکر ھے آگے محتاط رہ کر سفر کریں ۔۔۔۔ پتہ نہیں یہ احتیاط تھی یا ڈراوا ۔۔۔۔۔ دل میں عجیب طرح کے وسوسے آنے لگ جاتے تھے ۔۔۔۔ سفر تو بحرحال کرنا تھا ۔۔۔۔ لاھور سے یہاں تک پہنچے تھےتو آگے بھی پہنچ ھی جاٸیں گے ۔۔ کوٹکٸی کی چیک پوسٹ سے نکلے تو کچھ بلندی پر راستہ دو طرف تقسیم ھو رھا تھا ۔۔ سیدھے ھاتھ راستہ سراروغہ اور مکین کی طرف جاتا ھے اور اگر یہاں سے لیفٹ کر جاٸیں تو یہ راستہ کانیگروم اور وانہ کی طرف نکل جاتا ھے ۔۔۔۔اور مزید یہ راستہ براستہ کڑمہ ۔۔ سام اور لدھا پھر مکین کی طرف ھی لے جاتا ھے ۔۔۔ مگر ھمیں جاتے ھوۓ براستہ وام ۔۔۔۔۔سراروغہ ۔۔۔۔۔ دواتوٸی۔۔۔۔مروبی اور پھر مکین شہر تک پہنچنا تھا ۔۔۔

جنوبی وزیرستان کا شمالی حصہ بہت خوبصورت ھے ۔۔۔ روڈ کے دونوں اطراف پر موجود چھوٹی چھوٹی بستیاں ۔۔۔کمپاٶنڈ نما گھر ۔۔۔ سر سبز شاداب چھوٹی بڑی پہاڑیاں۔۔۔ درے اور گرین لینڈ اسکیپس بہت اٹریکٹ کرتے ھیں ۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ ھم سکیورٹی فورسسز کی ھدایات کے عین مطابق بلکل ناک کی سیدھ پر سفر کر رھے تھے اس سارے روٹ پر ایسا محسوس ھوتا رھا جیسے ھم مسلسل نگرانی میں ھوں ۔۔۔ سراروغہ میں چاٸے کے لٸے کچھ دیر توقف کیا اور نماز عصر ادا کی۔۔ ٹانک کے بعد اور مکین سے پہلے سراروغہ ھی ایک ایسا پواٸنٹ ھے جہاں قیام و طعام مل سکتا ھے اور مقامی لوگ تھوڑے کمرشل ھیں ۔۔۔ھمارا آج کا قیام مروبی گاٶں میں شہر یار محسود صاحب کے پاس تھا جو یہاں کے معروف جرنلسٹ بھی ھیں اور انھوں نے مروبی گاٶں میں تین چار کمروں کا گیسٹ ھاٶس بھی بنایا ھوا ھے ۔۔۔ شہر یار محسود صاحب ان بنیادی لوگوں میں سے ھیں جو وزیرستان میں سیاحت کی اھمیت کو سمجھتے ھیں اور سیاحوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ھیں ۔۔۔ ٹانک سے محمد قذافی  Qazafi Khan بھاٸی نے ھمارے حوالے سے ان کو ھی تاکید کی تھی کہ لاھور سے کچھ باٸیکر ٹوریسٹ مکین آ رھے ھیں جن کے ساتھ ایک فیمیل باٸیکر بھی ھے انھیں اکاموڈیٹ کرنا ھے ۔۔۔۔ شہاب لالہ نے سراروغہ سے مکین تک متعدد بار ان سے رابطہ کیا مگر ان کا فون ریسپانس نہیں کر رھا تھا ۔۔۔ ھمیں بحرحال آج شام تک جنوبی وزیرستان کے آخری اور مین تجارتی شہر مکین پہنچنا تھا ۔۔۔۔ دواتوٸی کی چیک پوسٹ پر ھمیں انٹریز میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔ وہ ھیڈ کوارٹر کو اطلاع دٸیے بغیر ھمیں آگے جانے کی اجازت نہیں دے رھے تھے کوٸی آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد ھمیں مکین جانے کی اجازت ملی مگر اس وقت تک آفتاب اپنی تمام تر رعناٸیوں کے ساتھ پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ھو چکا تھا ۔۔۔فضا میں عجیب طرح سکوت طاری ھو رھا تھا ۔۔۔ لالہ بار بار شہر یار محسود صاحب کا نمبر ڈاٸل کر رھے تھے مگر وہ مسلسل ناٹ ریسپانڈنگ تھا ۔۔۔۔ شہاب لالہ یہ بات شٸیر نہیں کر رھے تھے ۔۔۔ ھم باٸیکرز کا قافلہ مکین کی طرف رواں دواں تھا ۔۔۔۔ مکین پہنچ کر سکیورٹی اھلکار سے قیام و طعام کی معلومات لیں تو انھوں نے مکین میں نٸی تعمیر کردہ مارکیٹس میں ایک دو ھوٹلز کی طرف راھنماٸی کر دی ۔۔۔ خیر ھم اوپر

مارکیٹس کی لاٸن میں پہنچے ۔۔۔۔ کچھ شاپس ابھی کھلی تھیں مگر زیادہ تر کلوز ھو چکی ھیں ۔۔۔۔ ایک ھوٹل پر پہنچے ۔۔۔منیجر سے ملاقات ھوٸی تو وہ بہت خوش ھوٸے ۔ ان سے قیام و طعام کے لٸے پوچھا ۔۔۔ تو جواب ملا آپ درست جگہ پہنچ گٸے ھیں ۔۔ تھوڑا انتظار کر لیں ۔۔۔ ھوٹل کے مالک بس آنے ھی والے ھیں یہ کام بھی ھو جاٸے گا ۔۔۔۔ کچھ دیر میں ھوٹل کے مالک ملک ریاض محسود Malik Riaz بھی تشریف لے آۓ ھم سب ان سے پہلی بار مل رھے تھے مگر وہ اس طرح اپناٸیت سے مل رھے تھے جیسے ھماری پہلے سے جان پہچان ھو ۔۔۔ انھوں نے ھمیں مناسب ریٹ پر روم بھی دے دٸیے اور کھانے کا بھی اچھا اتظام کروا دیا ۔۔۔ ان کی اپناٸیت سے بہت اچھا محسوس ھو رھا تھا ۔۔۔ کافی دیر تک ان سے ھمارے وزیرستان کے سفر کے حوالے سے اور دیگر سیاحتی موضوعات پر گفتگو ھوتی رھی ۔۔۔ ان کے توسط سے ھماری سیاحتی معلومات میں بہت اضافہ ھوا۔۔ انھوں نے ھی ھمیں بتایا ۔۔کہ شہر یار محسود بھاٸی ایک قباٸلی جرگے میں مصروف تھے اس لٸے ان کا فون سوٸچ آف تھا ۔۔۔۔ خیر اب رات گزارنے کے لٸے کیفے مکین ھوٹل ایک بہترین متبادل کے طور پر ھمارے پاس تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔

    اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

    اپنا تبصرہ بھیجیں