سفر نامہ وزیرستان (سفر سفر داستان) پہلی قسط

K2 Kings Promoting Tourism & Cultures

سال 2021 کے آغاز سے ھی بہت سارے ٹریول پلانز ھمارے زیر بحث تھے جو مختلف وجوھات کی بنإ پر موخر ھوتے جا رھے تھے ۔۔بیٹی عالیہ علی طاھر Aalia Ali Tahir کو اپنی نئی بائیک Benelli TRK 251 کا شدت سے انتظار تھا وہ اس سال کا پہلا ٹوور اپنی نئی بائیک پر کرنا چاہ رھی تھی جس کی شوروم ڈیلیوری مسلسل تاخیر کا شکار ھو رھی تھی۔۔۔ خدا خدا کرکے مارچ میں بائیک ڈیلیور ھوئی تو سب سے پہلے شمشال جانے پر صلاح مشورہ ھوا مگر اسی دوران انٹرنیشنل شہرت یافتہ کرونا سرکار دھمال ڈالتے ھوئےتشریف لے آئی سفری پابندیاں لگیں تو یہ جوش بھی ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔۔۔ رمضان المبارک بھی اسی طرح سفری پابندیوں میں ھی گزر گیا ۔۔۔۔۔۔

عید گزرتے ساتھ ھی عالیہ بیٹی نے وزیرستان ٹوور کی بات شروع کی جو پہلے ھی ھمارے ٹریول پلانز میں زیر غور تھا اس کے روٹ اور دیگر معاملات پر ڈسکشن شروع ھوئی تو یہ پلان تقریبا فائنل ھو گیا ۔۔۔

وزیرستان کا نام سنتے ھی دوست احباب کی رائےاور مشورے کا انداز بھی بدل جاتا ھے ۔۔۔ جیسا کہ۔۔۔۔۔ وھاں جانے کے لئے حالات مناسب نہیں ھیں۔۔۔ سکیورٹی ایشوز ھو سکتے ھیں ۔۔۔گرمی بہت زیادہ ھے ۔۔۔ ساؤتھ جانے کا موسم نہں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ اس لحاظ سے عالیہ بیٹی بڑے مضبوط ارادوں کی مالک ھے وہ ھمیشہ کچھ نہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش میں لگی رھتی ھے ۔۔۔ وزیرستان ٹوور کے لئے وہ اپنی سٹڈی مکمل کر چکی تھی ھم نے ھر چیز کو بالائے طاق رکھتے ھوئے وزیرستان ٹوور کی تیاری شروع کر دی اور باقی معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔۔

میں نے روٹ پلان کے مطابق اپنے سفری معاونین دوست احباب سے رابطے شروع کر دیئے۔۔۔ دوستوں کی تیاری کے مطابق ھم 28 مئی کو بعد از نماز فجر گھر سے روانہ ھوئے۔۔۔۔۔۔ روٹ پلان کے مطابق ھمیں لاھور سے براستہ شیخو پورہ۔۔ فاروق آباد ۔۔۔۔پنڈی بھٹیاں۔۔ سرگودھا۔۔ خوشاب۔۔۔ میانوالی۔کندیاں موڑ اور چشمہ بیراج سے ھوتے ھوئے پہاڑی راستے سے لکی مروت پہنچنا تھا جہاں ھمارے اس سفر کا پہلا قیام تھا ۔۔۔۔ لاھور سے شیخو پورہ اور فاروق آباد تک تو سفر بڑا مزے کا رھا مگر اس کے بعد روڈ کے تیور بدلنا شروع ھو گئے پنڈی بھٹیاں سے سرگودھا تک تو بائیک سمیت ھمارا انجر پنجر ھل چکا تھا ۔۔ھم دس بجے کے قریب سرگودھا شہر پہنچے۔۔۔۔ تمام بازار ۔۔۔ مارکیٹس اور شاپنگ مال وغیرہ بند پڑے تھے کوئی اکا دکا دکانیں کھلی تھیں روڈز بلکل خالی تھے ھم بغیر کسی ٹریفک کی دشواری کے سرگودھا شہر سے نکل کر خوشاب موڑ پر پہنچ گئے شاید اسے جھال چکیاں موڑ بھی کہتے ھیں ۔۔۔جہاں سے ایک روڈ کوٹ مومن موٹروے کی طرف نکل جاتی ھے اور دوسری سنگل روڈ خوشاب کی طرف چلی جاتی ھے ۔۔۔۔ جب ھم جھال چکیاں پہنچے تو یاد آیا یہاں بھی میاں جی کی دال کی طرح ایک دال والا ھوٹل مشہور ھے اکثر سیاحتی محفلوں میں دوست اس دال کا ذکر کرتے رھتے ھیں۔۔۔ چوک پہ موجود ایک پھل فروش سے ھوٹل کا پتہ معلوم کیا تو اس نے اشارے سے بتایا وہ سامنے دائیں ھاتھ پر دال والا ھوٹل ھے ۔۔۔ گرمی اور دھوپ کی شدت میں خاصا اضافہ ھو چکا تھا اور اس روڈ پر ٹریفک کا رش بھی کافی زیادہ تھا ۔۔۔۔۔ شہاب گل بھائی نے ھمیں پہلے ھی گائیڈ کر دیا تھا کہ سرگودھا خوشاب روڈ پر ٹریفک کا رش بہت زیادہ ھوتا ھے دھیان سے ڈرائیوکیجئے گا ۔۔۔ ھم دال والے ھوٹل پہنچے کاؤنٹر سے کنفرم کیا ۔۔۔ یہی مشہور دال والا ھوٹل ھے تو بتایا گیا کہ آپ بلکل صحیح جگہ پہنچ گئےھیں ۔۔۔۔ مگر یہاں کوئی رش وش نہیں تھا باھر ایک پولیس کی گاڑی کھڑی تھی اور کچھ پولیس والے شاید دال پر ھی ھاتھ صاف کر کے ھوٹل سے نکل رھے تھے ۔۔۔ بیرے نے ھمیں فیملی ھال کی طرف گائیڈ کیا ھمارے علاوہ ھوٹل میں کوئی دوسرا گاھک نہیں تھا ۔۔۔۔ دل میں خیال آیا یہ کیسی مشہور دال ھے کھانے والا کوئی بھی نہیں تے مشہوری ھر پاسے اے ۔۔۔ بحرحال بیرے کو دو پلیٹ دال اور چاٹی کی لسی کا آرڈر دیا ۔۔ھمارے فریش ھونے تک ویٹر پورے لوازمات کے ساتھ حاضر ھو چکا تھا ۔۔۔۔ دال کی بظاھر حالت بہت پتلی نظر آ رھی تھی مگر ذائقےمیں لاجواب تھی ۔۔ چاٹی کی لسی موسم کی شدت کے حساب سے آب حیات لگ رھی تھی ۔۔۔۔ دال کی پلیٹ میں کافی چکنائی تیر رھی تھی ویٹر نے بتایا یہ دیسی گھی ھے تو اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا ۔۔۔ کھانا کھا کے باھر نکلے تو بائیکس کے اردگرد رش لگا ھوا تھا شاید انھیں پتہ چل گیا تھا کہ ایک بائیک لڑکی چلا رھی ھے ۔۔ھم نے وھاں سے جلدی نکلنے میں ھی عافیت جانی ۔۔۔

دھوپ کے ساتھ ساتھ روڈ پر ٹریفک کا رش بھی بدستور بڑھتا جا رھا تھا مگر روڈ بہترین تھا۔۔شاہ پور صدر سے ھوتے ھوئے خوشاب پہنچے ۔۔ شہاب بھائی نے یہاں سے سپیشل پتیسہ لانے کا میسج کیا تھا ۔۔۔ ویسے خوشاب میں پتیسے کے ساتھ ساتھ ڈھوڈا بھی بہت مشہور آئٹمھے یہ شکل و صورت میں ملتانی سوھن حلوے سے ملتا جلتا مٹھائی کی فیملی سے ھی تعلق رکھتا ھے مگر توانائی سے بھرپور ھے ۔

یہاں سے اگلا پڑاؤ میانوالی شہر تھا ۔۔۔۔ خوشاب سے نکلے تو دھوپ کی شدت بہت بڑھ چکی تھی گرم لو کے تھپیڑے آگے بڑھنے سے روک رھے تھے کچھ دیر سستانے کے لئے ایک چھوٹے سے ٹرک ھوٹل پر بریک لگائی یہاں پر بھی مکمل سناٹا تھا ۔۔۔دو اڑھائی گھنٹے آرام کرنے کے بعد روانہ ھوئے تو گرمی کی تپش میں خاصی کمی آ گئی تھی ایسا لگ رھا تھا جیسے موسم کروٹ بدل رھا ھو ۔۔۔۔۔ میانوالی سے ھمیں کندیاں موڑ براستہ چشمہ بیراج پہاڑی راستے سے لکی مروت جانا تھا یہ قدرے شارٹ راستہ ھے۔۔۔ میانوالی سے ایک دوسرا راستہ۔۔۔ ماڑی انڈس کالا باغ اور عیسی خیل سے ھوتا ھوا بھی لکی مروت جاتا ھے جو پہاڑی راستے سے زیادہ لمبا پڑتا ھے مگر ھمیں چشمہ بیراج کی زیارت کرنی تھی اس لئے پہاڑی راستے کو ترجیح دی تھی ۔۔۔۔۔ ھم کندیاں موڑ پہنچے تو موسم کے تیور بدلتے ھوئے دکھائی دیئے ۔۔۔۔۔ چشمہ بیراج سے پہلے ھی ھمیں تیز آندھی نے گھیر لیا ریت اور ھوا کے جھکڑ اتنے شدید تھے کہ بائیک سنبھالنا مشکل ھو رھا تھا میں عالیہ بیٹی کی طرف سے بہت فکر مند ھو رھا تھاوہ بہت محتاط ڈرائیو کر رھی تھی ۔۔۔۔ شدید آندھی اور ریتلے جھکڑوں کے باوجود ھم آھستہ آھستہ آگے بڑھ رھے تھے ۔۔۔۔ ریت کے جھکڑ اس قدر شدید تھے کہ راستہ بھی سجھائی نہیں دے رھا تھا کہیں رک جانا بھی محال لگ رھا تھا ۔۔۔۔۔ ھلکی ھلکی بارش شروع ھوئی تو بارش کی بوندوں کے ساتھ گردوغبار کم ھوا ۔۔۔۔ چشمہ بیراج کا خوبصورت نظارہ ھمارے سامنے تھا مگر بارش اور تیز ھوا کی وجہ سے کہیں ٹھہر نہیں پا رھے تھے ۔۔ ٹال پلازہ پہنچے پولیس والوں سے لکی مروت کا راستہ کنفرم کیا بائیں راستہ ڈیرہ اسمعیل خان کی طرف جاتا ھے اور دائیں والا راستہ لکی مروت کی طرف جاتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ پولیس اھلکار بڑی حیرانگی سے ھمیں اور ھماری بائیکس کو دیکھ رھا تھا ۔۔ یہ پہاڑی راستہ قدرے سنسان راستہ ھے اور آج تو موسم بھی بہت خراب تھا اس نے ھمیں تاکید کی کہ کوشش کر کے آپ لوگ شام ھونے سے پہلے پہلے لکی پہنچ جائیں تو بہتر ھو گا ۔۔۔ میں صورتحال کو سمجھ گیا تھا مگر اب اس راستے پر جانے کےعلاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا ۔۔۔۔۔ چشمہ بیراج کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ ھمارا سفر جاری تھا چونکہ بارش کی وجہ سے گردوغبار بیٹھ چکا تھا ھلکی پھلکی بوندا باندی کے ساتھ صرف تیز ھوا چل رھی تھی ھم نے ایک مناسب اونچی جگہ رک کر کچھ فوٹو گرافی کی ۔۔۔۔۔ موبائل دیکھا تو شہاب بھائی کی بہت ساری کالز آئی ھوئی تھیں۔۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ھمیں آج شام پانج بجے درہ تنگ پل پر پہنچنا تھا جہاں لکی رائیڈر کلب کی ٹیم ھمارے استقبال کے لئے موجود تھی ۔۔۔۔۔

جاری ھے ۔۔۔۔۔۔

    اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

    اپنا تبصرہ بھیجیں