سفر نامہ وزیرستان (سفر سفر داستان) چوتھی قسط

K2 Kings Promoting Tourism & Cultures

ٹانک وزیرستان کا مضافاتی شہر ھے ۔۔۔۔ ھم ٹانک سے بیس کلومیٹر دور چوک سے جنڈولہ کی طرف ٹرن کر چکے تھے ۔۔۔ یہ کافی بے آب و گیاہ اور سنسان ایریا ھے ۔۔۔دور دور تک کوئی انسانی آبادی نہیں ھے ۔۔۔ روڈ کے کنارے یا روڈ سے ھٹ کر اکا دکا فوجی چوکیاں اور کمپاٶنڈ ھیں جہاں ھمہ وقت سکیورٹی کا عملہ موجود رھتا ھے ۔۔۔۔ وزیرستان میں کافی حد تک روڈز نئے بنا دئیے گئے ھیں ۔۔۔ یہ جنڈولہ وزیرستان روڈ ھے جس پر ھم سفر کر رھے ھیں ۔۔۔ بہت ھی شاندار ھے ۔۔۔۔۔ ارد گرد تاحد نگاہ سطح زمین جنگلی جھاڑیوں اوبھڑ گھابڑ راستوں اور پتھریلے ٹیلوں پر مشتمل ھے ۔۔ گرم لو کے تھپیڑے جسم سے ٹکراتے گزر جاتے ھیں ۔۔۔۔ دوران سفر کانوں میں صرف شاں شاں کی آواز سنائی دیتی ھے ۔۔۔ ایسے بے آباد ویران علاقے کے بیچوں بیچ بل کھاتی خوبصورت سیاہ کارپٹ روڈ ۔۔۔ سفر کا مزہ دوبالا کر دیتی ھے ۔۔۔۔ مگر ایسے روڈز پر محتاط ڈرائیونگ پہلی شرط ھے ۔۔۔ ابھی روڈ سائیڈز پر دیگر ضروری سفری سہولیات جیسے پٹرول پمپ ۔۔ پینے کا پانی ۔۔۔۔ پنکچر شاپس اور ٹک شاپس وغیرہ کا کوئی خاص انتظام نہیں ھے ۔۔۔ اب ھم وزیرستان داخل ھو رھے ھیں ۔۔۔ وزیرستان انٹری کے لئے سب سے پہلی باقاعدہ چیک پوسٹ خر گئی ھمارے سامنے ھے ۔۔۔ اس پہلی چیک پوسٹ پر خواہ وہ لوکل ھوں یا کوئی دوسرے علاقوں سے آئے مسافر جو بھی وزیرستان جا رھے ھوں انھیں قومی شناختی کے ساتھ انٹری کروانی لازمی ھوتی ھے۔۔ قومی شناختی کارڈ کے بغیر وزیرستان جانا تقریبا ناممکن ھے ۔۔۔۔

چونکہ یہ سارا قبائلیپشتون علاقہ ھے اس لئے یہاں پر تعینات زیادہ تر سکیورٹی اھلکار پشتون ھی ھیں ۔۔۔ ھم لکی رائیڈر کلب کے روح رواں محترم شہاب لالہ Shahab Gul کی قیادت میں سفر کر رھے تھے وہ ھمارے ترجمان بھی تھے اس لئے ھمیں سکیورٹی اھلکاروں سے بات چیت کرنے میں کوئی دقت نہیں تھی ۔۔۔۔ شہاب لالہ انٹریز کروانے کے ساتھ ساتھ اھلکاروں سے کوٸی نہ کوئی علاقائی تعلق بھی نکال ھی لیتے تھے ۔۔۔۔ پھر خوب گپ شپ بھی کرتے تھے ۔۔۔۔ اور ھم سب چیک پوسٹ سے دور دھوپ میں کھڑے ان کے انتظار میں تسبیح پڑھتے رھتے تھے ۔۔۔

خرگئی چیک پوسٹ پر کمپیوٹرائزڈ انٹری ھے ۔۔۔ نادرا کی ویرفیکیشن کے بعد ھی مسافر کو آگے جانے کی اجازت ملتی ھے ۔۔۔۔ عالیہ بیٹی Aalia Ali Tahir کی انٹری کے وقت اھلکار تھوڑا محتاط ھو گیا تھا ۔۔۔ مگر شہاب بھائی نے پشتو میں وضاحت کر دی تھی کہ یہ ھماری بیٹی ھے اور ایک اچھی بائیکر ٹریولر ھے اور اپنی بائیک پر وزیرستان کا ٹوور کرنے آئی ھے ۔۔۔ اھلکار عالیہ بیٹی کی بائیک دیکھ کر کافی حیران و پریشان ھو رھا تھا ۔۔۔۔ اور ٹانک سے بھی میڈیا کے نمائندوں نے ھمارے پہنچنے سے پہلے ھی یہ خبر مکین تک پہنچا دی تھی کہ ایک لڑکی ھیوی بائیک پر وزیرستان آ رھی ھے اور وہ یہاں کی لوکل سیاحت کے فروغ حوالے سے ٹریول کر رھی ھے ۔۔۔ یہاں بھی مجھے ایسا ھی لگ رھا تھا ۔۔۔۔ اس پہلی چیک پوسٹ سے عالیہ کی انٹری کے بعد یہ خبر ھر چیک پوسٹ پر پہنچا دی گئی تھی ۔۔۔۔۔ آگے چل کر اس کا بھی ذکر کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ھمیں انٹریز کرواتے کافی وقت لگ گیا تھا ۔۔۔۔ انتظار کرنے کے لئے کوئی سایہ دار جگہ بھی نہ تھی ۔۔۔ خدا خدا کر کے یہاں سے نکلے تو وزیرستان کے پہاڑ نظر آنا شروع ھوئے۔۔۔۔ دوپہر ڈھل رھی تھی ۔۔ ھم سب کو ھلکی پھلکی بھوک محسوس ھو رھی تھی ۔۔ مگر اس ایریا میں کوئی کھانے پینے کا ھوٹل وغیرہ نظر نہیں آ رھا تھا ۔۔۔ شہاب لالہ کو اس صورتحال سے آگاہ کیا تو انھوں نے کہا یہاں سے کچھ دور ایک دو ٹرک ھوٹل ھیں وھاں جا کر رکتے ھیں اور کھانا کھاتے ھیں ۔۔۔ ھمارا سفر جاری تھا ۔۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ھے یہاں کے پہاڑوں کے گرافکس بڑے مختلف قسم کے ھیں جو شاید ایک عام مسافر کے لئے تو نہیں مگر ایک سیاح کے لئے دلچسپی کا باعث ھو سکتے ھیں ۔۔۔ ھم کہیں کہیں رک کر فوٹو گرافی بھی کر رھے تھے ۔۔۔ شہاب لالہ چونکہ ان راستوں اور جگہوں کی خوب واقفیت رکھتے تھے وہ ھمیں لیڈ کر رھے تھے ۔۔۔۔ انھوں نے ایک جگہ انڈیکیٹر لگا کر رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ یہ ایک مختصر سا ٹرک ھوٹل تھا اور شہاب لالہ کے بقول وہ پہلے بھی یہاں سے کھانا کھا چکے ھیں یہاں سے اچھا کھانا ملتا ھے اور سروس بھی بہت اچھی ھے ۔۔۔۔

کچھ لوگ کھانا کھا رھے تھے اور کچھ مسافر خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔۔ ھماری بائیکس رکتے ھی زیادہ تر لوگ ھماری طرف متوجہ ھوئے ۔۔۔ اور جب عالیہ نے بائیک روک کر ھیلمٹ اتارا تو وہ مزید متوجہ ھو گئے ۔۔ عالیہ کی وجہ سے ویٹر نے ھمیں بیٹھنے کے لئے ایک الگ سی جگہ خالی کروا دی ۔۔۔ تندور میں روٹیاں لگ رھی تھیں تندور کی طرف سے آتی روٹیوں کی مخصوص خوشبو نے ھماری بھوک کی اشتہا ٕ اور بھی بڑھا دی تھی ۔۔۔۔ کھانے کا مینیو بڑا مختصر تھا ۔۔۔۔ کھانے میں۔۔ گوشت پلاٶ ۔ دال ۔۔۔سبزی ۔۔۔ اور لڑمون پکا ھوا تھا ۔۔۔۔ دال سبزی تو ھر جگہ ھی مل جاتی ھے مگر لڑمون یہاں کی روائیتی ڈش لگ رھی تھی دال سبزی کے ساتھ وہ بھی آرڈر کر دیا ۔۔۔یہ بھی نمکین گوشت کی طرح ھی ایک ڈش تھی ۔۔۔ اور ٹیسٹ بھی مناسب ھی تھا ۔۔۔۔ یاد رھے یہ وزیرستان ھے ۔۔۔ یہاں ابھی سیاحت کا آغاز ھو رھا ھے ۔۔۔ اس لئے یہاں ابھی تک زیادہ مقدار میں انواع و اقسام کے چٹ پٹے کھانے میسر نہیں ھیں ۔۔۔۔ ویسے تو یہاں ابھی ھوٹل بھی خال خال ھی ملتے ھیں تو کھانے شانے تو بعد کی باتیں ھیں ۔۔۔۔ اگر میں ایک سیاح کی نظر سے دیکھوں تو فرینکلی یہاں پر عوامی ھوٹلز میں اچھے کھانوں اور وزیرستان میں پینے کے صاف پانی کا بڑا فقدان ھے ۔۔۔ مگر یہاں کے روایتی لوکل کھانے بہت ھی کمال کے ھوتے ھیں جو آپ کو تبھی ملیں گے جب آپ کسی مقامی دوست کے ھاں مہمان ھوں گے ایسے کھانے صرف گھروں میں ھی تیار ھوتے ھیں جن میں ویشلے۔۔۔۔نغان۔۔۔۔ کوک۔۔۔گاروٹائی ۔۔۔ساروبانی کوک۔۔۔۔مصری کوک۔۔۔ وریژے۔۔ غاڑکر۔۔۔ ورغوستی۔۔۔ گینگڑے۔۔۔۔کواچ۔۔۔۔ایگرہ۔۔۔۔ترواپے۔۔ کشکری ۔۔۔ اور لڑمون وغیرہ قابل ذکر روایتی قبائیلی کھانے ھیں ۔۔۔۔ان سب کھانوں میں ایک چیز بہت اھم اور مرکزی حثیت کی مالک ھوتی ھے ۔۔۔۔ وہ یہاں کا پیور مکھن اور دیسی گھی ھے جو تقریبا ھر کھانے کے ساتھ سروو کیا جاتا ھے ۔۔۔ اس کے علاوہ اور بھی ڈششز ھیں جو یہاں بنتی ھیں ۔۔۔مگر عوامی ھوٹلوں میں مسافروں کو ھر دل عزیز دال اور سبزی پر ھی گزارا کرنا پڑتا ھے ۔۔۔

جاری ھے ۔۔۔

    اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

    اپنا تبصرہ بھیجیں