مکشپوری ٹاپ شدید رش میں..

میرے ایک کزن ہیں جو مجھ سے آٹھ دس برس بڑے ہوں گے. اِس وقت کافی سینیئر افسر ہیں. اُن کی امی بتاتی ہوتی تھیں کہ بچپن میں وہ پہلے دن سکول بھیجے گئے. گھر واپس آئے تو اُن کے چہرے پر ہوایاں اُڑ رہی تھیں. امی نے پوچھا، بیٹا کیا بات ہے. بیٹے نے فرمایا… کچھ نہیں، لگتا ہے کہ کل دوبارہ جانا پڑے گا.

ظاہر ہے کہ اُن کو پھر کئی بار سکول جانا پڑا.. شاید چھ سات ہزار بار..

مکشپوری کے سلسلے میں میری بھی کچھ یہی صورتحال ہے. اتنی بار گیا ہوں کہ جیسے یہ میرا سکول ہو. اور اِس سکول میں بھی ہم بچوں کی طرح کاندھے پر بیگ ڈال کر جاتے ہیں. ہر بار نصاب الگ ہوتا ہے. ایسا سکول قسمت والوں کے نصیب میں آتا ہے. مزید یہ کہ کافی مخلوط سکول ہے. مخلوط سمجھتے ہیں؟ نہیں؟ شکر ہے..

  • ••

خیبر پختونخواہ کے ضلع ایبٹ آباد میں نتھیاگلی دو پہاڑیوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ ایک چوٹی علاقے کی بلند ترین چوٹی ہے، میرانجانی جو کہ تقریباً 10 ہزار فٹ بلند ہے۔ دوسری چوٹی مکشپوری ہے جو دوسری بلند ترین چوٹی ہے اور 9 ہزار 2 سو فٹ بلند ہے۔ مکشپوری کی ٹاپ دیوسائی سے مشابہ ہے۔ لہذا جسے دیوسائی یاد آتا ہو وہ مکشپوری ٹاپ وزٹ کر سکتا ہے۔ نتھیاگلی اور ڈونگاگلی، دونوں جانب سے مکشپوری ٹاپ 5 کلومیٹر دور ہے۔ یہ ایک آسان ٹریکنگ ہے اور شدید فطرت طاری کرتی ہے۔ البتہ بالکل نئے احباب کو یہ بھی نسبتاً مشکل لگتی ہے۔

مکشپوری ٹاپ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ٹاپ سے نانگاپربت نظر آتا ہے۔

بار بار جانے کا نتیجہ ہے کہ اب تو آنکھیں بند کر کے بھی جا سکتا ہوں. ایک بار موسم رضا ٹیم کے ہمراہ سردیوں میں مکشپوری گیا تھا. ہم برفزار نتھیاگلی کی جانب سے لالہ زار پہنچے. وہاں موجود گارڈ نے کہا کہ “آگے پنج پنج فٹ برف ہے اور تم سے پہلے ابھی تک کوئی نہیں گیا. تمہیں تو راستہ ہی نظر نہیں آئے گا.” مَیں نے کہا “تجربہ کے طور پر میری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر مجھے چھوڑ دو، پھر بھی ٹاپ تک پہنچوں گا.. اتنا خوش نصیب ہوں.” یقیناً ہم پہنچے.. اور مکشپوری کا وہ روپ نظر آیا کہ جو بہت ہی کم لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے… ہر جانب کنواری برفوں کے قالین تھے اور آسمانِ ایبٹ آباد بے حد نیلگوں تھا.

  • ••

ایسے ہی ایک روشن دن، مئی 2017 میں مَیں اپنی ٹیم کے ہمراہ مکشپوری ٹاپ جا رہا تھا. اس بار ٹیم ذرا مختلف نوعیت کی تھی… یعنی تین عدد لیڈیز تھیں۔ دو سدرائیں، ایک خدیجہ اور ایک کاکائے سدرہ۔

مکشپوری کا یہ پلان کھٹائی میں پڑ چکا تھا کیونکہ میرے پلانز ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں.. مَیں وہ تمام “سروِسِز” آفر نہیں کر سکتا جو باقاعدہ ٹریول کمپنیاں آفر کرتی ہیں بلکہ اُن کی اشتہاری مہم انہی “سروسز” کے گرد گھومتی ہے. چلیں آپ کو سیدھا سیدھا بطاطا ہوں. کیا حرج ہے. کچھ ماہ قبل میری جانب سے مکشپوری کا پلان پوسٹ ہوا.. وہ ایسے دن تھے جب مکشپوری کے لیے اوف-سیزن تھا. ایک صاحب نے مجھے میسج کیا “بھائی، کیا ٹاپ پر لڑکیاں ہوں گی؟” مَیں نے فوراً جواب دیا “نہیں بھائی، اپنی ساتھ لے کر جانی ہوں گی۔” اندازہ کیجیے کہ لوگ ٹوؤر اوپریٹرز کو کیا سمجھتے ہیں.. بہرحال وہ صاحب میرے ہمراہ نہیں گئے. مگر جو احباب میرے ہمراہ جاتے ہیں، اُن کے مقاصد ذرا کائناتی قسم کے ہوتے ہیں۔

  • ••

ہم سوا بارہ بجے ڈونگاگلی پہنچے. کافی کوسٹرز اور گاڑیاں موجود تھیں اور تقریباً سبھی ٹیمیں اوپر جا چکی تھیں. چند ایک رنگین رنگین سی ٹیمیں وہاں ابھی تک مٹرگشت کر رہی تھیں. پچھلی بار ایک دوست کپل کے ہمراہ ٹھنڈیانی جاتے ہوئے یہاں ڈونگاگلی میں یہی ماحول دیکھا تو ہم ٹھنڈیانی کے لیے ڈانواں ڈول ہو گئے اور مکشپوری کے لیے پر تولنے لگے. آج ہم آئے ہی مکشپوری کے لیے تھے.. دل کو سکون ملا.

  • ••

ڈونگاگلی سے کھانے پینے کا کچھ سامان لے کر ہم مکشپوری جانے والی سڑک پر پہنچے. ایک سیلفی لی اور سڑک پر بلند ہو گئے. ابھی دو منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ سدرائیں ہانپنے لگ گئیں.. مَیں نے پیراسُوٹامول سلگاتے ہوئے دل میں سوچا کہ ایہہ کَم خراب ہو گیا. البتہ مس خدیجہ ٹریکر ہونے کے ناطے بہترین جا رہی تھیں۔ کاکا بھی چھلانگیں مارتا ہوا بگٹٹ بھاگ رہا تھا۔

قریب سے دو خوبصورت گھوڑیاں گزریں جنہوں نے ٹائٹ جِینز… مطلب، جِینز والی گرلز اپنے اوپر بٹھائی ہوئی تھیں. اُن کے ہمراہ اُنہی کے جیسے پیارے پیارے سے لڑکے چل رہے تھے اور زبردست چاکلیٹی انگلش بول رہے تھے. ایک لڑکے نے سر پر باقاعدہ ہیئر بینڈ لگا کر بال پیچھے کیے ہوئے تھے. ہلکی داڑھی سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ لڑکا ہے. غالباً “غلمان” انہی کو کہتے ہیں.. مرد حُور سمجھ لیں.

مَیں نے اپنی ٹیم سے ویسے ہی ذکر کیا کہ اگر بالکل ہی ہمت جواب دے گئی تو ہم بھی گھوڑیوں کا انتظام کر لیں گے. اور یاد رہے کہ گھوڑی کی دم اتنی دلکش ہوتی ہے کہ جیسے محبوب کے بال ہوں. پچھلی بار ٹھنڈیانی ٹاپ پر ہلکی بارش اور تیز ہوا میں ایک ایسی ہی سیاہ گھوڑی دیکھی تھی جس پر سیاہ لباس میں ایک خاتون سوار تھی. دونوں کے بال ہوا میں لہرا رہے تھے.. معلوم نہ پڑ رہا تھا کہ گھوڑی کے بال کونسے ہیں اور خاتون کے کونسے.

  • ••

مکشپوری جانے والی یہ سڑک ڈونگاگلی سے اوپر ٹریک کے آغاز تک تقریباً ایک کلومیٹر طویل ہے. سڑک تو اچھی حالت میں ہے مگر چڑھائی کے باعث کافی چِیکیں کڈاتی ہے.. مگر اسی کی بدولت رفتہ رفتہ ہمت آ جاتی ہے اور آگے ٹریک کرنا آسان ہو جاتا ہے.

اسی سڑک پر چند ایسی چیزیں ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں. استقبال کرتی ہوئی پائن وُڈ فاریسٹ کی ہیجان انگیز خوشبو جو بلندیوں کی پہچان ہے. ایک گھر کی بالکونی میں لکڑی کا جھولا لٹکا ہوا ہے.. وہ بہت دلکش ہے.. اُسے جھولتے ہوئے چائے پینے کو بہت دل کرتا ہے. اسی گھر سے آگے ایک بہت ہی وسیع و عریض کوٹھی ہے جس کے لان میں ایک درخت ہے اور اُس پر لکڑی سے بنا ہوا ایک دلکش ٹری ہاؤس ہے. دل کرتا ہے کہ کاش اُس ٹری ہاؤس میں کچھ شب و روز گزاروں اور بارش کے دوران سلیپنگ بیگ میں لیٹ کر دو مگوں میں بلیک کوفی پیُوں… شاید یہ بھی جنت کی ایک تعریف ہو.

  • ••

پیچھے ایک ٹیم آتی سنائی دی. مطلب یہ کہ نظر تو وہ بہت بعد میں آئی، وہ بہت پیچھے سے شور مچاتے چلے آ رہے تھے. جب وہ نظر آئے تو مجھے خوف سا محسوس ہوا. وہ بیس پچیس کے قریب پینڈو پینڈو سے لگتے لڑکے تھے. مجھے اپنی لیڈیز کی فکر پڑ گئی. مَیں نے حتی الامکان کوشش کی کہ وہ لڑکے پونڈی نہ کر جائیں. ایسے وائلڈ قسم کے لڑکے سیدھی سیدھی پونڈی کرتے ہیں، ہم جیسوں کی مانند مہذب پَن کے خول میں تہذیب یافتہ پونڈی نہیں کرتے جو زیادہ دیر پا ہوتی ہے. بہرحال، زندگی کی بقا کے لیے یہ دونوں پونڈی اقسام ضروری ہیں. اگر راتوں رات سبھی لڑکے بے پناہ شریف ہو جائیں تو چند دہائیوں بعد بنی نوعِ انسان ختم ہو جائے گی. اور جلد ہی لڑکیوں کو محسوس ہونا شروع ہو جائے گا کہ کیا ہم دنیا میں آم لینے آئی ہیں.

  • ••

جب سڑک ختم ہوئی اور آخری کوٹھی کے بعد ہم باقاعدہ کچے ٹریک پر پہنچے تو مَیں اُس وقت کا انتظار کرنے لگ گیا.. قسم اُس وقت کی… اور جلد ہی وہ وقت آ گیا جب ایک سدرہ نے دوہائی دی کہ بس… مزید نہیں.. ہارٹ بیٹ تیز ہو رہی ہے.

مَیں نے کہا کہ یہ کیفیت وقتی ہوتی ہے اور ہر نئے ٹریکر کو پیش آتی ہے.. نو پرابلم. آپ بے شک بار بار آرام کریں. دوائی کھا لیں. اور یاد رکھیے کہ جانا تو ہم نے ہر صورت میں ہے.

ٹریک کے آغاز میں ایک نئی چیز نظر آئی. مکشپوری پر ٹکٹ لگ گئی ہے. جی ہاں.. اب مکشپوری آپ کو فری میں نہیں ملے گی. دیسی بدن 15 روپے ہے.. امپورٹڈ بدن کی قیمت 200 روپے ہے. دیسی مگر خوبصورت بدن کو اردو بول کر بتانی ہو گی ورنہ 200 روپے دیجیو.

  • ••

ٹکٹ بیریئر کے فوراً بعد اوپر کی جانب شارٹ کٹ راستہ اٹھتا ہے جو جانے کے لیے نہیں، واپسی کے لیے استعمال ہونا چاہیے. یہاں بہت چڑھائیاں ہیں. بارش کے دوران تو اس راستے کے متعلق سوچنا بھی مکروہِ تحریمی ہے.

  • ••

یوں رفتہ رفتہ.. بہت بار آرام کرتے ہوئے.. ٹینگ اور پانی پیتے ہوئے.. کاکے کو قابو میں رکھتے ہوئے.. میرانجانی کو نظر میں رکھتے ہوئے.. نانگاپربت کی روپوشی کا غم دل پر سہتے ہوئے.. ہم اصل راستے پر بڑھتے چلے گئے اور سدراؤں میں ہمت آتی گئی. اب پہلے والی صورتحال نہ تھی.. کافی بہتر تھی. البتہ جب کبھی راستے میں چڑھائی آ جاتی تب کَم خراب ہونے پر آ جاتا.

ایک جگہ تینوں لیڈیز کو نیچے گہرائی میں دکھایا کہ ہم واں سے یاں تک پہنچ گئے ہیں. ایبٹ آباد روڈ بہت ننھی منی سی لگ رہی تھی.

  • ••

کافی گھنٹوں کے بعد ہم آخری چڑھائی کے قریب پہنچے. یعنی سوا بارہ کے چلے ہوئے چار بج چکے تھے.

یہی وہ چڑھائی تھی جس نے مجھے صبح سے غمگین کر رکھا تھا کہ یہاں میری ٹیم کا کیا بنے گا. یہی وہ چڑھائی تھی جہاں پہنچ کر گزشتہ کسی مہم میں مس لبنیٰ طاہر نے مزید آگے جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اُس باہمت خاتون نے اپنی آخری حد سے بڑھ کر حوصلہ دکھا دیا. یہیں ایک بار مس سیدہ بخاری برف میں پھسلتی ہوئی کافی اوپر سے نیچے تشریف لائی تھیں. مَیں نے پوچھا تھا “کیا ہوا؟” مس بخاری نے کہا تھا “معلوم نہیں، مَیں ابھی آئی ہوں”. یہیں مس دیا خلیل کے پھرتیلے پن کا اندازہ ہوا کہ گویا انہیں خبر ہی نہ ہوئی کہ مکشپوری کی سب سے مشکل چڑھائی وہ کتنی آسانی سے عبور کر رہی ہیں. یہیں کیپٹن وحیدہ ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے دوستوں سے بچھڑ گئیں.. اب دوبارہ سگنل آ رہے ہیں.

اسی چڑھائی پر لڑکوں کی ایک ٹیم اوپر سے آ رہی تھی. اُن کے پاس ساؤنڈ سسٹم تھے اور وہ اتنا شور مچا رہے تھے کہ مکشپوری خاتون رونے پر آ گئی. باذوق احباب جانتے ہیں کہ یہ شور بھی گند ہوتا ہے.

پیچھے ایک سفید بالوں والے انکل تیز رفتار سے آ رہے تھے. اُن کے ہمراہ آٹھ دس خواتین تھیں. وہ سب ہمیں کراس کر کے اوپر چلے گئے. لگتا تھا کہ انکل نے اپنی فیملی کو کافی پریکٹس کرائی ہوئی تھی.

  • ••

چڑھائی کراس ہو گئی اور تب ہم قدرے نرم دل راستے پر آ گئے جس کے فوراً بعد ٹاپ کی رِج آ جاتی ہے. اوپر رِج پر پہنچ کر سب کے لیے تالیاں بجائی گئیں. واقعی تمام لیڈیز پاور پف گرلز ثابت ہوئیں. اُنہوں نے بڑا حوصلہ دکھایا.

ہم ٹاپ پر پہنچ گئے تھے اور ٹیم کامیابی سے ہمکنار ہو گئی… البتہ ابھی ٹاپوں ٹاپ ہم نے آخری کیبن تک جانا تھا. اب تو آسان راستہ تھا.

وہاں دیکھا کہ ہر پہاڑی پر رنگین جنگلات اُگ آئے تھے.. پہلے تو ایسا نہ تھا.. غور سے دیکھا تو معلوم پڑا کہ بے تحاشہ ٹوؤر گروپس کے سینکڑوں لڑکاز اینڈ لڑکیز ٹولیوں میں موجود ہیں. وہ سب آپس میں بہت بزی لگ رہے تھے.. اچھے لگے. ویسے یہ بھی فطرت کا تقاضا ہے.. یہ بھی فطرت ہی ہے.. اٹس اول رایٹ.

ہم آخری کیبن کی جانب چلنا شروع ہوئے. کہہ سکتے ہیں کہ گویا مادھولال حسین کا عرس جاری تھا. ہر جانب آتش بھڑک رہی تھی.

ماہی ماہی کُوکدی

مَیں آپئی رانجھن ہوئی

رانجھن رانجھن سب کوئی آکھو

ہیر نہ آکھو کوئی

اور ہِیروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ…

رانجھا رہ گیا ونجلی جوگا

ہیر تے ہو گئی وارث شاہ دی

  • ••

آخری کیبن کے پاس پہنچ کر ہم بیٹھنے کے لیے جگہ ڈھونڈنے لگ گئے کیونکہ ہزاروں لڑکے لڈیاں ڈال رہے تھے….. اگر لُڈے لڑکیاں ڈال رہے ہوتے تب مناسب ماحول ہوتا.

ہم ڈھلوان سے ذرا نیچے ہو کر بیٹھ گئے اور اپنے سامنے موجود کہرآلود گلگت-بلتستان کا مشاہدہ کرنے لگے. دائیں جانب دعوتِ وصل دیتی پہاڑی تھی اور نشیب میں چھوٹی سی جھیل تھی. یہ جو پہاڑی ہے، درست موسم میں وہاں شدید مشک آور جامنی پھول وجود میں آتے ہیں. مجھے اس پہاڑی سے شدید محبت ہے. لیکن آج اُس تک جانا ممکن نہ تھا.

  • ••

دیر ہو رہی تھی.. ہم رفتہ رفتہ شارٹ کٹ والے راستے سے ڈونگاگلی اترنا شروع ہو گئے کیونکہ تمام گروپ ادھر ہی جا رہے تھے. یہ ایک احتیاط تھی.

سدھارتھ کے جاگرز ٹوٹنا شروع ہو گئے اور تھکاوٹ سے اس کا برا حال ہو گیا. تب اس نے کہا “اتنا مشکل کام کرتے ہو؟ پتا ہی نہ تھا.” مَیں نے کہا کہ اب تو پریکٹس ہو گئی ہے، پہلے ایکٹنگ کرنا پڑتی تھی کہ کچھ وی نئیں ہوا. اب تو یہ مکشپوری ہلکی پھلکی واک بن گئی ہے.. جیسے ہر روز سکول جاتے ہیں.

ٹریک پر ایک پولیس والا ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگ گیا. یہ ایک خوش آیند صورتحال تھی کیونکہ ہم ہی آخری ٹریکرز رہ گئے تھے.

ڈونگاگلی پہنچے تو مغرب میں سورج شمس تبریز کی مانند روشن نظر آ رہا تھا اور ڈونگاگلی میں شاید ولیمہ کا فنکشن تھا، اتنی لڑکیاں تھیں کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔

    اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

    اپنا تبصرہ بھیجیں